Pages

Friday, 9 December 2016

بڑے معصوم بنتے ہو،ستم بھی لاکھ ڈھاتے ہو


بڑے معصوم بنتے ہو،ستم بھی لاکھ ڈھاتے ہو
ستم چھوڑو یا نہ چھوڑو مگر معصومیت چھوڑو

یقین کرو آج اِس قدر یاد آ رہے ہو تم


یقین کرو آج اِس قدر یاد آ رہے ہو تم
جس قدر تم نے بھلا رکھا ہےمجھے

حالات کہہ رہے ہیں وہ اب نہیں یاد کریں گے


 حالات کہہ رہے ہیں وہ اب نہیں یاد  کریں گے
اُمید کہہ رہی ہے،،بس تھوڑا اور انتظار

خدا کبھی نہ کرے غم سے ہمکنار تجھے


خدا کبھی نہ کرے غم سے ہمکنار تجھے
یہ دعا دیتا ہے میرا دل بار بار تجھے۔۔

اب نہ وہ منظر نہ وہ چھرے نظر آتے ہیں


اب نہ وہ منظر نہ وہ چھرے نظر آتے ہیں
مجھ کو معلوم نہ تھا خواب بھی مر جاتے ہیں
جانے کس حال میں ہیں ہم کہ ہمیں دیکھ کر سب
اک پل کے لیے رُکتے ہیں گزر جاتے ہیں