Pages

Friday, 2 December 2016

چلو یہ زندگی اب ہم تمھارے نام کرتے ہیں


چلو یہ زندگی اب ہم تمھارے نام کرتے ہیں
سُنا ہے بے وفا کی بے وفا سے خوب بنتی ہے۔۔

خالی ہاتھوں کو کبھی غور سے دیکھا ہے فراز


 خالی ہاتھوں کو کبھی غور سے دیکھا ہے فرازؔ
کس طرح لوگ لکیروں سے نکل جاتے ہیں

دل سُلگتا یے تیرے سرد رویے پہ میرا


دل سُلگتا یے تیرے سرد رویے پہ میرا
دیکھ اس برف نے کیا آگ لگا رکھی ہے۔۔

اے میرے چارہ گر تیرے بس میں نہیں معاملہ


اے میرے چارہ گر تیرے بس میں نہیں معاملہ
صورتِ حال کے لیے واقفِ حال چاہئے

اس نے مجھے چھوڑ دیا تو کیا ہوا فرازؔ


اس نے مجھے چھوڑ دیا تو کیا ہوا فرازؔ
میں نے بھی تو چھوڑا تھا سارا زمانہ اسکے لیے